Tafseer of Ayah 14:37 • Surah Ibrahim
سورۃ ابراهيم — تفسیر آیت 37
Urdu tafseer of Ayah 14:37 from سورۃ ابراهيم (Surah Ibrahim). Read the complete commentary with Arabic ayah text, Urdu tarjuma, and English translation reference.
Arabic + Urdu + English Reference
رَّبَّنَآ إِنِّىٓ أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِى بِوَادٍ غَيْرِ ذِى زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ ٱلْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا ٱلصَّلَوٰةَ فَٱجْعَلْ أَفْـِٔدَةً مِّنَ ٱلنَّاسِ تَهْوِىٓ إِلَيْهِمْ وَٱرْزُقْهُم مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ
اے پروردگار میں نے اپنی اولاد کو میدان (مکہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لابسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میوؤں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں
Our Lord, I have settled some of my descendants in an uncultivated valley near Your sacred House, our Lord, that they may establish prayer. So make hearts among the people incline toward them and provide for them from the fruits that they might be grateful.
Tafseer source: تفسیر ابنِ کثیر. Content is supplied through Quran.com's API; consult qualified scholars for religious rulings.
Urdu Tafseer
یہ دوسری دعا ہے پہلی دعا اس شہر کے آباد ہونے سے پہلے جب آپ اسماعیل علیہ السلام کو مع ان کی والدہ صاحبہ کے یہاں چھوڑ کرگئے تھے۔ تب کی تھی اور یہ دعا اس شہر کے آباد ہو جانے کے بعد کی اسی لیے یہاں «بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ» کا لفظ لائے اور نماز کے قائم کرنے کا بھی ذکر فرمایا۔
ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”یہ متعلق ہے لفظ المحرم ساتھ یعنی اسے باحرمت اس لیے بنایا ہے کہ یہاں والے بااطمینان یہاں نمازیں ادا کر سکیں۔“ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف جھکا دے“، اگر سب لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکانے کی دعا ہوتی تو فارس و روم یہود و نصاری غرض تمام دنیا کے لوگ یہاں الٹ پڑتے۔ آپ علیہ السلام نے صرف مسلمانوں کے لیے یہ دعا کی۔ اور دعا کرتے ہیں کہ ”انہیں پھل بھی عنایت فرما۔“ یہ زمین زراعت کے قابل بھی نہیں اور دعا ہو رہی ہے پھلوں کی زوزی کی اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی جیسے ارشاد ہے «اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْــبٰٓى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ» [28-القصص:57] یعنی ” کیا ہم نے انہیں حرمت و امن والی ایسی جگہ عنایت نہیں فرمائی؟ جہاں ہر چیز کے پھل ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں جو خاص ہمارے پاس کی روزی ہے “۔
پس یہ بھی اللہ کا خاص لطف و کرم عنایت و رحم ہے کہ شہر کی پیداوار کچھ بھی نہیں اور پھل ہر قسم کے وہاں موجود، چاروں طرف سے وہاں چلے آئیں۔ یہ ہے ابراہیم خلیل الرحمن صلوات اللہ وسلامہ علیہ کی دعا کی قبولیت۔
