Tafseer of Ayah 14:43 • Surah Ibrahim
سورۃ ابراهيم — تفسیر آیت 43
Urdu tafseer of Ayah 14:43 from سورۃ ابراهيم (Surah Ibrahim). Read the complete commentary with Arabic ayah text, Urdu tarjuma, and English translation reference.
Arabic + Urdu + English Reference
مُهْطِعِينَ مُقْنِعِى رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۖ وَأَفْـِٔدَتُهُمْ هَوَآءٌ
(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہوں گے
Racing ahead, their heads raised up, their glance does not come back to them,1 and their hearts are void.
Tafseer source: تفسیر ابنِ کثیر. Content is supplied through Quran.com's API; consult qualified scholars for religious rulings.
Urdu Tafseer
کوئی یہ نہ سمجھے کہ برائی کرنے والوں کی برائی کا اللہ کو علم ہی نہیں اس لیے یہ دنیا میں پھل پھول رہے ہیں، نہیں اللہ ایک ایک کے ایک ایک گھڑی کے برے بھلے اعمال سے بخوبی واقف ہے یہ ڈھیل خود اس کی دی ہوئی ہے کہ یا تو اس میں واپس ہو جائے یا پھر گناہوں میں بڑھ جائے یہاں تک کہ قیامت کا دن آ جائے۔ جس دن کی ہولناکیاں آنکھیں پتھرا دیں گی، دیدے چڑھا دیں گی، سر اٹھائے پکارنے والے کی آواز کی طرف دوڑے چلے جائیں گے، کہیں ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ سب کے سب پورے اطاعت گزار بن جائیں گے، دوڑے بھاگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری کیلئے بیتابانہ آئیں گے، آنکھیں نیچے کو نہ جھکیں گی، گھبراہٹ اور فکر کے مارے پلک سے پلک نہ جھپکے گی۔ دلوں کا یہ حال ہو گا کہ گویا اڑے جاتے ہیں۔ خالی پڑے ہیں۔ خوف کے سوا کوئی چیز نہیں۔ وہ حلقوم تک پہنچے ہوئے ہیں، اپنی جگہ سے ہٹے ہوئے ہیں، دہشت سے خراب ہو رہے ہیں۔
