Tafseer of Ayah 18:73 • Surah Al-Kahf
سورۃ الكهف — تفسیر آیت 73
Urdu tafseer of Ayah 18:73 from سورۃ الكهف (Surah Al-Kahf). Read the complete commentary with Arabic ayah text, Urdu tarjuma, and English translation reference.
Arabic + Urdu + English Reference
قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِى بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِى مِنْ أَمْرِى عُسْرًا
English translation unavailable.
Urdu Tafseer
دونوں میں جب شرط طے ہو گئی کہ تو سوال نہ کرنا جب تک میں خود ہی اس کی حکمت تجھ پر ظاہر نہ کروں تو دونوں ایک ساتھ چلے۔ پہلے مفصل روایتیں گزر چکی ہیں کہ کشتی والوں نے انہیں پہچان کر بغیر کرایہ لیے سوار کر لیا تھا۔ جب کشتی چلی اور بیچ سمندر میں پہنچی تو خضر علیہ السلام نے ایک تختہ اکھیڑ ڈالا پھر اسے اوپر سے ہی جوڑ دیا۔ یہ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہو سکا، شرط کو بھول گئے اور جھٹ سے کہنے لگے کہ یہ کیا واہیات ہے؟ [لِتُغْرِقَ] کا لام لام عاقبت ہے، لام تعلیل نہیں ہے، جیسے شاعر کے اس قول میں [لدوا للموت وبنوا للحزاب] یعنی ہر پیدا شدہ جان دار کا انجام موت ہے اور ہر بنائی ہوئی عمارت کا انجام اجڑنا ہے۔ امرا کے معنی منکر اور عجیب کے ہیں۔ یہ سن کر خضر علیہ السلام نے انہیں ان کا وعدہ یاد دلایا کہ تم نے اپنی شرط کا خلاف کیا۔ میں تو تم سے پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ تمہیں ان باتوں کا علم نہیں، تم خاموش رہنا، مجھ سے نہ کچھ کہنا نہ سوال کرنا۔ ان کاموں کی مصلحت و حکمت اللہ مجھے معلوم کراتا ہے اور تم سے یہ چیزیں مخفی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے معذرت کی کہ اس بھول کو معاف کرو اور مجھ پر سختی نہ کرو، پہلے جو لمبی حدیث مفصل واقعہ کی بیان ہوئی ہے، اس میں ہے کہ یہ پہلا سوال فی الواقع بھول چوک سے ہی تھا۔
Arabic Audio
Audio unavailable.
Urdu Audio
Audio unavailable.