Tafseer of Ayah 23:110 • Surah Al-Muminoon
سورۃ المؤمنون — تفسیر آیت 110
Urdu tafseer of Ayah 23:110 from سورۃ المؤمنون (Surah Al-Muminoon). Read the complete commentary with Arabic ayah text, Urdu tarjuma, and English translation reference.
Arabic + Urdu + English Reference
فَٱتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰٓ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِى وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ
English translation unavailable.
Urdu Tafseer
کافر جب جہنم سے نکلنے کی آرزو کریں گے تو انہیں جواب ملے گا کہ اب تو تم اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے خبردار اب یہ سوال مجھ سے نہ کرنا آہ یہ کلام رحمان ہو گا جو دوزخیوں کو ہرکھیل سے مایوس کر دے گا اللہ ہمیں بچائے اے رحمتوں والے اللہ ہمیں اپنے رحم کے دامن میں چھپالے اپنی ڈانٹ ڈپٹ اور غصے سے بچالے آمین۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جہنمی پہلے تو داروغہ جہنم کو بلائیں گے چالیس سال تک اسے پکارتے رہیں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے چالیس برس کے بعد جواب ملے گا کہ تم یہیں پڑے رہو۔ ان کی پکار کی کوئی وقعت اور داروغہ جہنم کے پاس ہو گی نہ اللہ جل وعلا کے پاس۔ پھر براہ راست اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے اور کہیں گے کہ اے اللہ ہم اپنی بدبختی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہم اپنی گمراہی میں ڈوب گئے اے اللہ اب تو ہمیں یہاں سے نجات دے اگر اب بھی ہم یہی برے کام کریں تو جو چاہے سزا کرنا اس کا جواب انہیں دنیا کی دگنی عمر تک نہ دیا جائے گا پھر فرمایا جائے گا کہ رحمت سے دور ہو کر ذلیل وخوار ہو کر اسی دوزخ میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو اب یہ محض مایوس ہو جائیں گے اور گدھوں کی طرح چلاتے اور شور مچاتے جلتے اور بھنتے رہیں گے۔
اس وقت ان کے چہرے بدل جائیں گے صورتیں مسخ ہو جائیں گی یہاں تک کہ بعض مومن شفاعت کی اجازت لے کر آئیں گے لیکن یہاں کسی کو نہیں پہچانیں گے جہنمی انہیں دیکھ کر کہیں گے کہ میں فلاں ہوں لیکن یہ جواب دیں گے کہ غلط ہے ہم تمہیں نہیں پہچانیں گے۔ اب دوزخی لوگ اللہ کو پکاریں گے اور وہ جواب پائیں گے جو اوپر مذکور ہوا ہے پھر دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جائیں گے اور یہ وہی سڑتے رہیں گے۔ انہیں شرمندہ اور پشیمان کرنے کے لیے ان کا ایک زبردست گناہ پیش کیا جائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے بندوں کا مذاق اڑتے تھے اور ان کی دعاؤں پر دل لگی کرتے تھے وہ مومن اپنے رب سے بخشش و رحمت طلب کرتے تھے اسے ارحم الراحمین کہہ کر پکارتے تھے لیکن یہ اسے ہنسی میں اڑاتے تھے اور ان کے بغض میں ذکر رب چھوڑ بیٹھتے تھے اور ان کی عبادتوں اور دعاؤں پر ہنستے تھے جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ» [83-المطففين:29،30] ، یعنی گنہگار ایمانداروں سے ہنستے تھے اور انہیں مذاق میں اڑاتے تھے۔ اب ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے اپنے ایماندار صبر گزار بندوں کو بدلہ دے دیا ہے وہ سعادت سلامت نجات وفلاح پا چکے ہیں اور پورے کامیاب ہو چکے ہیں۔
Arabic Audio
Audio unavailable.
Urdu Audio
Audio unavailable.