Skip to main content

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Read al Quran
Urdu Tafseer

Tafseer of Ayah 24:15 • Surah An-Noor

سورۃ النور — تفسیر آیت 15

Urdu tafseer of Ayah 24:15 from سورۃ النور (Surah An-Noor). Read the complete commentary with Arabic ayah text, Urdu tarjuma, and English translation reference.

Arabic + Urdu + English Reference

إِذْ تَلَقَّوْنَهُۥ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُم مَّا لَيْسَ لَكُم بِهِۦ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُۥ هَيِّنًا وَهُوَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمٌ

جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی

When you received it with your tongues1 and said with your mouths that of which you had no knowledge and thought it was insignificant while it was, in the sight of Allāh, tremendous.

Tafseer source: تفسیر ابنِ کثیر. Content is supplied through Quran.com's API; consult qualified scholars for religious rulings.

Urdu Tafseer

اللہ کا فصل نہ ہوتا تو عذاب آ جاتا ٭٭

فرمان ہے کہ ” اے وہ لوگوں جنہوں نے صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بابت اپنی زبانوں کو بری حرکت دی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا کہ وہ دنیا میں تمہاری توبہ کو قبول کرلے اور آخرت میں تمہیں تمہارے ایمان کی وجہ سے معاف فرما دے تو جس بہتان میں تم نے اپنی زبانیں ہلائیں اس میں تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا “۔

یہ آیت ان لوگوں کے حق میں ہے جن کے دلوں میں ایمان تھا لیکن رواداری میں کچھ کہہ گئے تھے جیسے مسطع حسان، حمنہ رضی اللہ عنہم۔ لیکن جن کے دل ایمان سے خالی تھے جو اس طوفان کے اٹھانے والے تھے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ منافقین یہ لوگ اس حکم میں نہیں تھے، کیونکہ نہ اس کے پاس ایمان تھا نہ عمل صالح۔ یہ بھی یاد رہے کہ جس بدی پر جو وعید ہے وہ اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب توبہ نہ ہو اور اس کے مقابلہ میں اس جیسی یا اس سے بڑی نیکی نہ ہو۔ جب کہ تم اس بات کو پھیلا رہے تھے، اس سے سن کر اس سے کہی اور اس نے سن کر دوسرے سے کہی۔ [صحیح بخاری:کتاب التفسیر سورۃ النور]

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قرأت میں «إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ» ہے یعنی ” جب کہ تم اس جھوٹ کی اشاعت کر رہے تھے “۔ [صحیح بخاری:4752]

پہلی قرأت جمہور کی ہے، اور یہ قرأت ان کی ہے جنہیں اس آیت کا زیادہ علم تھا، اور تم وہ بات زبان سے نکالتے تھے، جس کا تمہیں علم نہ تھا۔ تم گو اس کلام کو ہلکا سمجھتے رہے، لیکن دراصل اللہ کے نزدیک وہ بڑا بھاری کلام تھا۔ کسی مسلمان عورت کی نسبت ایسی تہمت جرم عظیم ہے۔ پھر اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کے اوپر ایسا کلمہ، سمجھ لو کہ کتنا بڑا کبیرا گناہ ہوا؟ اسی لیے رب کی غیرت اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرما کر خاتم الانبیاء سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کی پاکیزگی ثابت فرمائی۔

ہر نبی علیہ السلام کی بیوی کو اللہ تعالیٰ نے اس بے حیائی سے دور رکھا ہے پس کیسے ممکن تھا کہ کہ تمام نبیوں کی بیویوں سے افضل اور ان کی سردار۔ تمام نبیوں سے افضل اور تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اس میں آلودہ ہوں۔ «حَاشَا وَكَلَّا» ۔ پس تم گو اس کلام کو بے وقعت سمجھو لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے کہ انسان بعض مرتبہ اللہ کی ناراضگی کا کوئی کلمہ کہہ کر گزرتا ہے، جس کی کوئی وقعت اس کے نزدیک نہیں ہوتی لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم کے اتنے نیچے طبقے میں پہنچ جاتا ہے کہ جتنی نیچی زمین آسمان سے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ نیچا ہوتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6477]

صفحہ نمبر5880

Arabic Audio

Urdu Audio