Skip to main content
Al-Quran
Urdu Tafseer

Tafseer of Ayah 29:16 • Surah Al-Ankaboot

Arabic + Urdu + English Reference

وَإِبْرَٰهِيمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱتَّقُوهُ ۖ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

اور ابراہیمؑ کو (یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

And ˹remember˺ when Abraham said to his people, “Worship Allah, and fear Him. This is better for you, if only you knew.

Urdu Tafseer

ریاکاری سے بچو ٭٭

امام الموحدین ابوالمرسلین خلیل اللہ علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو توحید اللہ کی دعوت دی ریاکاری سے بچنے اور دل میں پرہیزگاری قائم کرنے کا حکم دیا اس کی نعمتوں پر شکر گزاری کرنے کو فرمایا۔ اور اس کا نفع بھی بتایا کہ دنیا اور آخرت کی برائیاں اس سے دور ہو جائیں گی اور دونوں جہاں کی نعمتیں اس سے مل جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں بتایا کہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو۔ یہ تو بےضرر اور بے نفع ہے تم نے خود ہی ان کے نام اور ان کے اجسام تراش لیے ہیں۔ وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں بلکہ تم سے بھی کمزور ہیں۔ یہ تمہاری روزیوں کے بھی مختار نہیں۔ اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو۔

اسی حصہ کے ساتھ آیت «إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ» [1-الفاتحة:5] ‏ بھی ہے کہ ” ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ “

یہی آسیہ رضی اللہ عنہا کی دعا میں ہے آیت «رَ‌بِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» [66-التحريم:11]” اے اللہ! میرے لیے اپنے پاس ہی جنت میں مکان بنا “۔

چونکہ اس کے سوا کوئی رزق نہیں دے سکتا اس لیے تم اسی سے روزیاں طلب کرو اور جب اس کی روزیاں کھاؤ تو اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ اس کی نعمتوں کا شکر بجالاؤ۔ تم میں سے ہر ایک اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ وہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ دیکھو مجھے جھوٹا کہہ کر خوش نہ ہو۔ نظریں ڈالو کہ تم سے پہلے جنہوں نے نبیوں کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا تھا ان کی کیسی درگت ہوئی؟ یاد رکھو نبیوں کا کام صرف پیغام الٰہی پہنچا دینا ہے۔ ہدایت عدم ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے۔ اپنے آپ کو سعات مندوں میں بناؤ بدبختوں میں شامل نہ کرو۔ قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مزید تشفی کی گئی ہے اس مطلب کا تقاضا تو یہ ہے کہ پہلا کام ختم ہوا۔ اور یہاں سے لے کر آیت «فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّ‌قُوهُ فَأَنجَاهُ اللَّـهُ مِنَ النَّارِ‌ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» تک یہ سب عبارت بطور جملہ معترضہ کے ہے۔

ابن جریر رحمہ اللہ نے تو کھلے لفظوں میں یہی کہا ہے۔ لیکن الفاظ قرآن سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کلام خلیل االرحمٰن علیہ السلام کا ہے آپ قیامت کے قائم ہونے کی دلیلیں پیش کر رہے ہیں کیونکہ اس تمام کلام کے بعد آپ کی قوم کا جواب ذکر ہوا ہے۔

صفحہ نمبر6672

Arabic Audio

Audio unavailable.

Urdu Audio

Audio unavailable.

Back to Ayah PageBack to Surah