Skip to main content
Al-Quran
Urdu Tafseer

Tafseer of Ayah 30:28 • Surah Ar-Room

Arabic + Urdu + English Reference

ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِّنْ أَنفُسِكُمْ ۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُكُم مِّن شُرَكَآءَ فِى مَا رَزَقْنَـٰكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَآءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ

وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ بھلا جن (لونڈی غلاموں) کے تم مالک ہو وہ اس (مال) میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے تمہارے شریک ہیں، اور (کیا )تم اس میں (اُن کو اپنے) برابر (مالک سمجھتے) ہو( اور کیا) تم اُن سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو، اسی طرح عقل والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

He sets forth for you an example ˹drawn˺ from your own lives: would you allow some of those ˹bondspeople˺ in your possession to be your equal partners in whatever ˹wealth˺ We have provided you, keeping them in mind as you are mindful of your peers? This is how We make the signs clear for people who understand.

Urdu Tafseer

اپنے دلوں میں جھانکو! ٭٭

مشرکین مکہ اپنے بزرگوں کو شریک اللہ جانتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانتے تھے کہ یہ سب اللہ کے غلام اور اس کے ماتحت ہیں۔ چنانچہ وہ حج وعمرے کے موقعہ پر لبیک پکارتے ہوئے کہتے تھے کہ (‏ [ «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» ] ‏) یعنی ہم تیرے دربار میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ کہ وہ خود اور جس چیز کا وہ مالک ہے سب تیری ملکیت میں ہے۔

یعنی ہمارے شریکوں کا اور ان کی ملکیت کا تو ہی اصلی مالک ہے۔ پس یہاں انہیں ایک ایسی مثال سے سمجھایا جا رہا ہے جو خود یہ اپنے نفس ہی میں پائیں۔ اور بہت اچھی طرح غور وخوض کر سکیں۔ فرماتا ہے کہ ” کیا تم میں سے کوئی بھی اس امر پر رضا مند ہو گا کہ اس کے کل مال وغیرہ میں اس کے غلام اس کے برابر کے شریک ہوں اور ہر وقت اسے یہ دھڑ کا رہتا ہو کہ کہیں وہ تقسیم کرکے میری جائیداد اور ملکیت آدھوں آدھ بانٹ نہ لے جائیں “۔

صفحہ نمبر6786

پس جس طرح تم یہ بات اپنے لیے پسند نہیں کرتے اللہ کے لیے بھی نہ چاہو جس طرح غلام آقا کی ہمسری نہیں کر سکتا اسی طرح اللہ کا کوئی بندہ اللہ کا شریک نہیں ہوسکتا۔ یہ عجب ناانصافی ہے کہ اپنے لیے جس بات سے چڑیں اور نفرت کریں اللہ کے لیے وہی بات ثابت کرنے بیٹھ جائیں۔ خود بیٹیوں سے جلتے تھے، اتنا سنتے ہی کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی ہے منہ کالے پڑجاتے تھے اور اللہ کے مقرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے۔ اسی طرح خود اس بات کے کبھی رودار نہیں ہونے کہ اپنے غلاموں کو اپنا برابر کا شریک و سہیم سمجھیں۔ لیکن اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک سمجھ رہے ہیں کس قدر انصاف کا خون ہے؟

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرک جو لبیک پکارتے تھے اور اس میں اللہ کے لا شریک ہونے کا اقرار کرکے پھر اس کی غلامی تلے دوسروں کو مان کر انہیں اس کا شریک ٹھہراتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔‏ [طبرانی کبیر:12348:ضعیف] ‏ اور اس میں بیان ہے کہ ” جب تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر کا شریک ٹھہرانے سے عار رکھتے ہو تو اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک کیوں ٹھہرا رہے ہو؟ “۔

یہ صاف بات بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ” ہم اسی طرح تفصیل وار دلائل غافلوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں “۔ پھر فرماتا ہے اور بتلاتا ہے کہ ” مشرکین کے شرک کی کوئی سند، عقلی، نقلی کوئی دلیل نہیں صرف کرشمہ جہالت اور پیروی خواہش ہے۔ جبکہ یہ راہ راست سے ہٹ گئے تو پھر انہیں اللہ کے سوا اور کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا “۔

یہ گو دوسروں کا اپنا کارساز اور مددگار مانتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ دشمنان اللہ کا دوست کوئی نہیں۔ کون ہے جو اس کی مرضی کے خلاف لب ہلا سکے۔ کون ہے جو اس پر مہربانی کرے جس پر اللہ نامہربان ہو؟ جو وہ چاہے وہی ہوتا ہے اور جسے وہ نہ چاہے ہو نہیں سکتا۔

صفحہ نمبر6787
Back to Ayah PageBack to Surah