Skip to main content

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Read al Quran
Urdu Tafseer

Tafseer of Ayah 34:45 • Surah Saba

سورۃ سبإ — تفسیر آیت 45

Urdu tafseer of Ayah 34:45 from سورۃ سبإ (Surah Saba). Read the complete commentary with Arabic ayah text, Urdu tarjuma, and English translation reference.

Arabic + Urdu + English Reference

وَكَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَمَا بَلَغُوا مِعْشَارَ مَآ ءَاتَيْنَـٰهُمْ فَكَذَّبُوا رُسُلِى ۖ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ سو میرا عذاب کیسا ہوا

And those before them denied, and they [i.e., the people of Makkah] have not attained a tenth of what We had given them. But they [i.e., the former peoples] denied My messengers, so how [terrible] was My reproach.

Tafseer source: تفسیر ابنِ کثیر. Content is supplied through Quran.com's API; consult qualified scholars for religious rulings.

Urdu Tafseer

کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے؟ ٭٭

کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنتے ہیں۔ قبول کرنا ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھے اور سچے دین سے روک رہا ہے اور اپنے باطل خیالات کی طرف تمہیں بلا رہا ہے یہ قرآن تو اس کا خود تراشیدہ ہے آپ ہی گھڑ لیتا ہے۔ اور یہ تو جادو ہے اور اس کا جادو ہونا کچھ ڈھکا چھپا نہیں بالکل ظاہر ہے۔

صفحہ نمبر7221

پھر فرماتا ہے کہ ان عربوں کی طرف نہ تو اس سے پہلے کوئی کتاب بھیجی گئی ہے نہ آپ سے پہلے ان میں سے کوئی رسول آیا ہے۔ اس لیے انہیں مدتوں سے تمنا تھی کہ اگر اللہ کا رسول ہم میں آتا اگر کتاب اللہ ہم میں اترتی تو ہم سب سے پہلے مطیع اور پابند ہو جاتے۔ لیکن جب اللہ نے ان کی یہ دیرینہ آرزو پوری کی تو جھٹلانے اور انکار کرنے لگے، ان سے اگلی امتوں کے نتیجے ان کے سامنے ہیں۔ وہ قوت و طاقت، مال و متاع، اسباب دنیوی، ان لوگوں سے بہت زیادہ رکھتے تھے۔ یہ تو ابھی ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے لیکن میرے عذاب کے بعد نہ مال کام آئے نہ اولاد اور کنبے قبیلے کام آئے۔ نہ قوت و طاقت نے کوئی فائدہ دیا۔ برباد کر دیئے گئے۔

جیسے فرمایا «وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً» [46-الأحقاف:26] ‏ یعنی ” ہم نے انہیں قوت و طاقت دے رکھی تھی۔ آنکھیں اور کان بھی رکھتے تھے دل بھی تھے لیکن میری آیتوں کے انکار پر جب عذاب آیا اس وقت کسی چیز نے کچھ فائدہ نہ دیا۔ اور جس کے ساتھ مذاق اڑاتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔ “ کیا یہ لوگ زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھتے جو ان سے تعداد میں زیادہ طاقت میں بڑھے ہوئے تھے۔

مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے باعث پیس دیئے گئے۔ جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے۔ تم غور کر لو! دیکھ لو کہ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کی نصرت کی اور کس طرح جھٹلانے والوں پر اپنا عذاب اتارا؟

صفحہ نمبر7222

Arabic Audio

Urdu Audio