Tafseer of Ayah 35:45 • Surah Faatir
سورۃ فاطر — تفسیر آیت 45
Urdu tafseer of Ayah 35:45 from سورۃ فاطر (Surah Faatir). Read the complete commentary with Arabic ayah text, Urdu tarjuma, and English translation reference.
Arabic + Urdu + English Reference
وَلَوْ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِن دَآبَّةٍ وَلَـٰكِن يُؤَخِّرُهُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِۦ بَصِيرًۢا
اور اگر خدا لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب پکڑنے لگتا۔ تو روئے زمین پر ایک چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا۔ لیکن وہ ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ سو جب ان کا وقت آجائے گا تو (ان کے اعمال کا بدلہ دے گا) خدا تو اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے
And if Allāh were to impose blame on the people for what they have earned, He would not leave upon it [i.e., the earth] any creature. But He defers them for a specified term. And when their time comes, then indeed Allāh has ever been, of His servants, Seeing.
Tafseer source: تفسیر ابنِ کثیر. Content is supplied through Quran.com's API; consult qualified scholars for religious rulings.
Urdu Tafseer
حکم ہوتا ہے کہ ان منکروں سے فرما دیجئیے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں تو سہی کہ ان جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا عبرتناک انجام ہوا۔ ان کی نعمتیں چھن گئیں، ان کے محلات اجاڑ دیئے گئے، ان کی طاقت تنہا ہو گئی، ان کے مال تباہ کر دیئے گئے، ان کی اولادیں ہلاک کر دی گئیں، اللہ کے عذاب ان پر سے کسی طرح نہ ٹلے۔ آئی ہوئی مصیبت کو وہ نہ ہٹا سکے، نوچ لیے گئے، تباہ و برباد کر دیئے گئے، کچھ کام نہ آیا، کوئی فائدہ کسی سے نہ پہنچا۔ اللہ کو کوئی ہرا نہیں سکتا، اسے کوئی امر عاجز نہیں کر سکتا، اس کا کوئی ارادہ کامیابی سے جدا نہیں، اس کا کوئی حکم کسی سے ٹل نہیں سکتا، وہ تمام کائنات کا عالم ہے وہ تمام کاموں پر قادر ہے۔ اگر وہ اپنے بندوں کے تمام گناہوں پر پکڑ کرتا تو تمام آسمانوں والے اور زمینوں والے ہلاک ہو جاتے۔ جانور اور رزق تک برباد ہو جاتے۔ جانوروں کو ان کے گھونسلوں اور بھٹوں میں بھی عذاب پہنچ جاتا۔ زمین پر کوئی جانور باقی نہ بچتا۔ لیکن اب ڈھیل دیئے ہوئے ہے عذابوں کو مؤخر کئے ہوئے ہے وقت آ رہا ہے کہ قیامت قائم ہو جائے اور حساب کتاب شروع ہو جائے۔ اطاعت کا بدلہ اور ثواب ملے۔ نافرمانی کا عذاب اور اس پر سزا ہو۔ اجل آنے کے بعد پھر تاخیر نہیں ملنے کی۔ اللہ عزوجل اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے اور وہ بخوبی دیکھنے والا ہے۔
