Skip to main content
Read al Quran
Urdu Tafseer

Tafseer of Ayah 38:16 • Surah Saad

سورۃ ص — تفسیر آیت 16

Urdu tafseer of Ayah 38:16 from سورۃ ص (Surah Saad). Read the complete commentary with Arabic ayah text, Urdu tarjuma, and English translation reference.

Arabic + Urdu + English Reference

وَقَالُوا۟ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ ٱلْحِسَابِ

English translation unavailable.

Urdu Tafseer

گذشتہ مفرور قوموں کا انجام ٭٭

ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہو چکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور اور ذر میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آ چکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہو گی کہ جس کے کان میں پڑی بے ہوش و بے جان ہو گیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کر دیا ہے۔

صفحہ نمبر7677

«‏قِطَّ» کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ»[ 8-الأنفال: 32 ] ‏ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے حضرت ضحاک رحمہ اللہ اور اسماعیل رحمہ اللہ کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔

صفحہ نمبر7678

Arabic Audio

Audio unavailable.

Urdu Audio

Audio unavailable.

Back to Ayah PageAll Saad TafseerBack to SurahPrevious TafseerNext Tafseer