Skip to main content

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Read al Quran
Urdu Tafseer

Tafseer of Ayah 5:47 • Surah Al-Maaida

سورۃ المائدة — تفسیر آیت 47

Urdu tafseer of Ayah 5:47 from سورۃ المائدة (Surah Al-Maaida). Read the complete commentary with Arabic ayah text, Urdu tarjuma, and English translation reference.

Arabic + Urdu + English Reference

وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ ٱلْإِنجِيلِ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فِيهِ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ

اور اہل انجیل کو چاہیئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اس کے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرماں ہیں

And let the People of the Gospel judge by what Allāh has revealed therein. And whoever does not judge by what Allāh has revealed - then it is those who are the defiantly disobedient.

Tafseer source: تفسیر ابنِ کثیر. Content is supplied through Quran.com's API; consult qualified scholars for religious rulings.

Urdu Tafseer

باطل کے غلام لوگ ٭٭

” انبیاء بنی اسرائیل کے پیچھے ہم عیسیٰ علیہ السلام نبی کو لائے جو توراۃ پر ایمان رکھتے تھے، اس کے احکام کے مطابق لوگوں میں فیصلے کرتے تھے، ہم نے انہیں بھی اپنی کتاب انجیل دی، جس میں حق کی ہدایت تھی اور شبہات اور مشکلات کی توضیح تھی اور پہلی الہامی کتابوں کی تصدیق تھی، ہاں چند مسائل جن میں یہودی اختلاف کرتے تھے، ان کے صاف فیصلے اس میں موجود تھے “۔

جیسے قرآن میں اور جگہ ہے کہ «وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ» [3-آل عمران:50] ‏ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، ” میں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کروں گا جو تم پر حرام کردی گئی ہیں “۔

اسی لیے علماء کا مشہور مقولہ ہے کہ انجیل نے تورات کے بعض احکام منسوخ کر دیئے ہیں۔ انجیل سے پارسا لوگوں کی رہنمائی اور وعظ و پند ہوتی تھی کہ وہ نیکی کی طرف رغبت کریں اور برائی سے بچیں۔ «اَھْلَ اِْلانْجِیْلِ» بھی پڑھا گیا ہے اس صورت میں «وَاُلْيَحْكُمْ» میں لام «کَیْ» معنی میں ہو گا۔ مطلب یہ ہو گا کہ ” ہم نے عیسیٰ کو انجیل اس لیے دی تھی کہ وہ اپنے زمانے کے اپنے ماننے والوں کو اسی کے مطابق چلائیں “ اور اس لام کو امر کا لام سمجھا جائے اور مشہور قراۃ «وَلْيَحْكُمْ» پڑھی جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ ” انہیں چاہیئے کہ انجیل کے کل احکام پر ایمان لائیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں “۔

جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ» [5-المائدہ:68] ‏، یعنی ” اے اہل کتاب جب تک تم تورات و انجیل پر اور جو کچھ اللہ کی طرف سے اترا ہے، اگر اس پر قائم ہو تو تم کسی چیز پر نہیں ہو “۔

اور آیت میں ہے «‏اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ» [7-الأعراف:157] ‏، ” جو لوگ اس رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرتے ہیں، جس کی صفت اپنے ہاں توراۃ میں لکھی ہوئی پاتے ہیں وہ لوگ جو کتاب اللہ اور اپنے نبی کے فرمان کے مطابق حکم نہ کریں وہ اللہ کی اطاعت سے خارج، حق کے تارک اور باطل کے عامل ہیں “۔ یہ آیت نصرانیوں کے حق میں ہے۔ روش آیت سے بھی یہ ظاہر ہے اور پہلے بیان بھی گزر چکا ہے۔

صفحہ نمبر2336

Arabic Audio

Urdu Audio