Skip to main content

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Read al Quran
Urdu Tafseer

Tafseer of Ayah 57:15 • Surah Al-Hadid

سورۃ الحديد — تفسیر آیت 15

Urdu tafseer of Ayah 57:15 from سورۃ الحديد (Surah Al-Hadid). Read the complete commentary with Arabic ayah text, Urdu tarjuma, and English translation reference.

Arabic + Urdu + English Reference

فَٱلْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنكُمْ فِدْيَةٌ وَلَا مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا ۚ مَأْوَىٰكُمُ ٱلنَّارُ ۖ هِىَ مَوْلَىٰكُمْ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

تو آج تم سے معاوضہ نہیں لیا جائے گا اور نہ (وہ) کافروں ہی سے (قبول کیا جائے گا) تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ (کہ) وہی تمہارے لائق ہے اور وہ بری جگہ ہے

So today no ransom will be taken from you or from those who disbelieved. Your refuge is the Fire. It is most worthy of you, and wretched is the destination."

Tafseer source: Tafsir Ibn Kathir. Content is supplied through Quran.com's API; consult qualified scholars for religious rulings.

Urdu Tafseer

منافقین کا واویلہ ٭٭

اب یہ یاد دلائیں گے کہ دیکھو دنیا میں ہم تمہارے ساتھ تھے جمعہ جماعت ادا کرتے تھے عرفات اور غزوات میں موجود رہتے تھے واجبات ادا کرتے تھے۔ ایماندار کہیں گے ہاں بات تو ٹھیک ہے لیکن اپنے کرتوت تو دیکھو، گناہوں میں، نفسانی خواہشوں میں، اللہ کی نافرمانیوں میں عمر بھر تم لذتیں اٹھاتے رہے اور آج توبہ کر لیں گے کل بد اعمالیوں چھوڑ دیں گے اسی میں رہے۔

انتظار میں ہی عمر گزاری دی کہ دیکھیں مسلمانوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اور تمہیں یہ بھی یقین نہ آیا کہ قیامت آئے گی بھی یا نہیں؟ اور پھر اس آرزو میں رہے کہ اگر آئے گی پھر تو ہم ضرور بخش دیئے جائیں گے اور مرتے دم تک اللہ کی طرف یقین خلوص کے ساتھ جھکنے کی توفیق میسر نہ آئی اور اللہ کے ساتھ تمہیں دھوکے باز شیطان نے دھوکے میں ہی رکھا۔ یہاں تک کہ آج تم جہنم واصل ہو گئے۔ مطلب یہ ہے کہ جسموں سے تو تم ہمارے ساتھ تھے لیکن دل اور نیت سے ہمارے ساتھ نہ تھے بلکہ حیرت و شک میں ہی پڑے رہے ریا کاری میں رہے اور دل لگا کر یاد الٰہی کرنا بھی تمہیں نصیب نہ ہوا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ منافق مومنوں کے ساتھ تھے، نکاح بیاہ مجلس مجمع موت زیست میں شریک رہے۔ لیکن اب یہاں بالکل الگ کر دیئے گئے۔ سورۃ المدثر کی آیتوں میں ہے کہ «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ عَنِ الْمُجْرِمِينَ مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» [74-المدثر:38-47]” مسلمان مجرموں سے انہیں جہنم میں دیکھ کر پوچھیں گے کہ آخر تم یہاں کیسے پھنس گئے اور وہ اپنے بداعمال گنوائیں گے۔“ تو یاد رہے کہ یہ سوال صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں شرمندہ کرنے کے لیے ہو گا ورنہ حقیقت حال سے مسلمان خوب آگاہ ہوں گے۔

پھر جیسے وہاں فرمایا تھا «فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ» [74-المدثر:48]” کسی کی سفارش انہیں نفع نہ دے گی۔ “ یہاں فرمایا ” آج ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں قبول نہ کیا جائے گا، نہ منافقوں سے، نہ کافروں سے ان کا مرجع و ماویٰ جہنم ہے وہی ان کے لائق ہے اور ظاہر ہے کہ وہ بدترین جگہ ہے۔“

صفحہ نمبر9304

Arabic Audio

Urdu Audio