Skip to main content
Al-Quran
Urdu Tafseer

Tafseer of Ayah 64:16 • Surah At-Taghaabun

Arabic + Urdu + English Reference

فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ مَا ٱسْتَطَعْتُمْ وَٱسْمَعُوا۟ وَأَطِيعُوا۟ وَأَنفِقُوا۟ خَيْرًا لِّأَنفُسِكُمْ ۗ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِۦ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

سو جہاں تک ہوسکے خدا سے ڈرو اور (اس کے احکام کو) سنو اور (اس کے) فرمانبردار رہو اور (اس کی راہ میں) خرچ کرو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور جو شخص طبعیت کے بخل سے بچایا گیا تو ایسے ہی لوگ راہ پانے والے ہیں

So be mindful of Allah to the best of your ability, hear and obey, and spend in charity—that will be best for you. And whoever is saved from the selfishness of their own souls, it is they who are ˹truly˺ successful.

Urdu Tafseer

اللہ سے طاقت کے مطابق ڈرنا ٭٭

پھر فرماتا ہے ” اپنے مقدور بھر اللہ کا خوف رکھو اس کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرو “۔

بخاری و مسلم میں ہے جو حکم میں کروں اسے اپنی مقدور بھر بجا لاؤ , جس سے میں روک دوں رک جاؤ ۔ [صحیح بخاری:7288]

بعض مفسرین کا فرمان ہے کہ سورۃ آل عمران کی آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [3-آل عمران:102] ‏ کی ناسخ یہ آیت ہے، یعنی پہلے فرمایا تھا ” اللہ تعالیٰ سے اس قدر ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے “، لیکن اب فرما دیا کہ ” اپنی طاقت کے مطابق “۔

چنانچہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلی آیت لوگوں پر بڑی بھاری پڑی تھی اس قدر لمبے قیام کرتے تھے کہ پیروں پر ورم آ جاتا تھا اور اتنے لمبے سجدے کرتے تھے کہ پیشانیاں زخمی ہو جاتی تھیں۔‏

صفحہ نمبر9555

پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر تخفیف کر دی اور بھی بعض مفسرین نے یہی فرمایا ہے اور پہلی آیت کو منسوخ اور اس دوسری آیت کو ناسخ بتایا ہے۔

پھر فرماتا ہے ” اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ , ان کے فرمان سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو , نہ آگے بڑھو , نہ پیچھے سرکو، نہ امر کو چھوڑو , نہ نہی کے خلاف کرو، جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے رشتہ داروں کو , فقیروں، مسکینوں کو اور حاجت مندوں کو دیتے رہو، اللہ نے تم پر احسان کیا تم دوسری مخلوق پر احسان کرو تاکہ اس جہان میں بھی اللہ کے احسان کے مستحق بن جاؤ اور اگر یہ نہ کیا تو دونوں جہان کی بربادی اپنے ہاتھوں آپ مول لو گے “۔

«وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» [59-الحشر:9] ‏ کی تفسیر اس آیت میں گزر چکی ہے۔ ” جب تم کوئی چیز راہ اللہ دو گے اللہ اس کا بدلہ دے گا ہر صدقے کی جزا عطا فرمائے گا، تمہارا مسکینوں کے ساتھ سلوک کرنا گویا اللہ کو قرض دینا ہے “۔

صفحہ نمبر9556

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” کون ہے؟ جو ایسے کو قرض دے جو نہ تو ظالم ہے، نہ مفلس، نہ نادہندہ “ ۔ [صحیح مسلم:758]

پس فرماتا ہے ” وہ تمہیں بہت کچھ بڑھا چڑھا کر پھیر دے گا “، جیسے سورۃ البقرہ میں بھی فرمایا ہے «فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرۃ:245]” کئی کئی گنا بڑھا کر دے گا “۔

ساتھ ہی خیرات سے تمہارے گناہ معاف فرما کر دے گا، اللہ بڑا قدر دان ہے، تھوڑی سی نیکی کا بہت بڑا اجر دیتا ہے، وہ بردبار ہے، درگزر کرتا ہے، بخش دیتا ہے، گناہوں سے اور لغزشوں سے چشم پوشی کر لیتا ہے، خطاؤں اور برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، چھپے کھلے کا عالم ہے اور وہ غالب اور باحکمت ہے، ان اسماء حسنیٰ کی تفسیر کئی کئی مرتبہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ التغابن کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

صفحہ نمبر9557

Arabic Audio

Audio unavailable.

Urdu Audio

Audio unavailable.

Back to Ayah PageBack to Surah