Skip to main content

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Read al Quran
Urdu Tafseer

Tafseer of Ayah 7:149 • Surah Al-A'raaf

سورۃ الأعراف — تفسیر آیت 149

Urdu tafseer of Ayah 7:149 from سورۃ الأعراف (Surah Al-A'raaf). Read the complete commentary with Arabic ayah text, Urdu tarjuma, and English translation reference.

Arabic + Urdu + English Reference

وَلَمَّا سُقِطَ فِىٓ أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا قَالُوا لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَـٰسِرِينَ

اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے

And when regret overcame them1 and they saw that they had gone astray, they said, "If our Lord does not have mercy upon us and forgive us, we will surely be among the losers."

Tafseer source: تفسیر ابنِ کثیر. Content is supplied through Quran.com's API; consult qualified scholars for religious rulings.

Urdu Tafseer

بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے، ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے، سامری نے انہیں جمع کیا اور اپنے پاس سے اس میں خاک کی مٹھی ڈال دی جو جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کی ٹاپ تلے سے اس نے اٹھالی تھی۔ اللہ کی قدرت سے وہ سونا گل کر مثل ایک گائے کے جسم کے ہو گیا اور چونکہ کھوکھلا تھا، اس میں سے آواز بھی آنے لگی اور وہ بالکل ہو بہو گائے کی سی آواز تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کو بہکا کر اس کی عبادت کرانی شروع کر دی، بہت سے لوگ اسے پوجنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے طور پر موسیٰ علیہ السلام کو اس فتنے کی خبر دی۔

یہ بچھڑا یا تو سچ مچ خون گوشت کا بن گیا تھا یا سونے کا ہی تھا مگر شکل گائے کی تھی، یہ اللہ ہی جانے۔ بنی اسرائیل تو آواز سنتے ہی ناچنے لگے اور اس پر ریجھ گئے۔ سامری نے کہہ دیا کہ اللہ تو یہی ہے، موسیٰ علیہ السلام بھول گئے ہیں۔ انہیں اتنی بھی تمیز نہ آئی کہ وہ اللہ تو کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور کسی نفع نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتا۔ اس بچھڑے کو اس اللہ کو چھوڑ کر پوجو جو سب کا مالک اور سب کا خالق ہے۔ اس کی وجہ سوائے اندھے پن اور بےعقلی کے اور کیا ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا: کسی چیز کی محبت انسان کو اندھا، بہرا کر دیتی ہے۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف] ‏

پھر جب اس محبت میں کمی آئی، آنکھیں کھلیں تو اپنے اس فعل پر نادم ہونے لگے اور یقین کر لیا کہ واقعی ہم گمراہ ہو گئے تو اللہ سے بخشش مانگنے لگے۔ ایک قرأت میں «تَغْفِرْ» ”ت“ سے بھی ہے۔ جان گئے کہ اگر معافی نہ ملی تو بڑے نقصان سے دو چار ہو جائیں گے۔ غرض اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ سے جھکے اور التجا کرنے لگے۔

صفحہ نمبر3068