Skip to main content
Read al Quran
Urdu Tafseer

Tafseer of Ayah 7:188 • Surah Al-A'raaf

سورۃ الأعراف — تفسیر آیت 188

Urdu tafseer of Ayah 7:188 from سورۃ الأعراف (Surah Al-A'raaf). Read the complete commentary with Arabic ayah text, Urdu tarjuma, and English translation reference.

Arabic + Urdu + English Reference

قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ لَٱسْتَكْثَرْتُ مِنَ ٱلْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِىَ ٱلسُّوٓءُ ۚ إِنْ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

English translation unavailable.

Urdu Tafseer

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب نہیں تھا ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ آپ تمام کام اللہ کے سپرد کریں اور صاف کہہ دیں کہ غیب کی کسی بات کا مجھے علم نہیں، میں تو صرف وہ جانتا ہوں جو اللہ تعالیٰ مجھے معلوم کرا دے۔

جیسے سورۃ الجن میں ہے کہ «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا» [72-الجن:26]” عالم الغیب اللہ تعالیٰ ہی ہے، وہ اپنے غیب پر کسی کو آگاہ نہیں کرتا۔ “

مجھے اگر غیب کی اطلاع ہوتی تو میں اپنے لیے بہت سی بھلائیاں سمیٹ لیتا۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اگر مجھے اپنی موت کا علم ہوتا تو نیکیوں میں بھی سبقت لے جاتا۔ لیکن یہ قول غور طلب ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال دائمی تھے، جو نیکی ایک بار کرتے، پھر اسے معمول بنا لیتے۔ [صحیح بخاری:1987]

ساری زندگی اور زندگی کا ہر ایک دن بلکہ ہر ایک گھڑی ایک ہی طرح کی تھی۔ گویا کہ آپ کی نگاہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف لگتی رہتی تھیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ بات یوں ہو سکتی ہے کہ دوسروں کو میں ان کی موت کے وقت سے خبردار کر کے انہیں اعمال نیک کی رغبت دلاتا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس سے زیادہ اچھا قول اس کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے کہ میں مال جمع کر لیتا، مجھے معلوم ہو جاتا کہ اس چیز کے خریدنے میں نفع ہے، میں اسے خرید لیتا۔

صفحہ نمبر3157

جانتا کہ اس کی خریداری میں نقصان ہے، نہ خریدتا۔ خشک سالی کے لیے ترسالی میں ذخیرہ جمع کر لیتا، ازرانی کے وقت گرانی کے علم سے سودا جمع کر لیتا۔ کبھی کوئی برائی مجھے نہ پہنچتی کیونکہ میں علم غیب سے جان لیتا کہ یہ برائی ہے تو میں پہلے سے ہی اس سے جتن کر لیتا۔ لیکن میں علم غیب نہیں جانتا۔ اس لیے فقیری بھی مجھ پر آتی ہے، تکلیف بھی ہوتی ہے۔ مجھ میں تم یہ وصف نہ مانو۔ سنو! مجھ میں وصف یہ ہے کہ میں برے لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈراتا ہوں، ایمانداروں کو جنت کی خوشخبری سناتا ہوں۔

جیسے کہ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مريم:97]” ہم نے اسے تیری زبان پر آسان کر دیا ہے کہ تو پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور بروں کو ڈرا دے۔ “

صفحہ نمبر3158

Arabic Audio

Audio unavailable.

Urdu Audio

Audio unavailable.

Back to Ayah PageAll Al-A'raaf TafseerBack to SurahPrevious TafseerNext Tafseer