Skip to main content

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Read al Quran
Urdu Tafseer

Tafseer of Ayah 9:87 • Surah At-Tawba

سورۃ التوبة — تفسیر آیت 87

Urdu tafseer of Ayah 9:87 from سورۃ التوبة (Surah At-Tawba). Read the complete commentary with Arabic ayah text, Urdu tarjuma, and English translation reference.

Arabic + Urdu + English Reference

رَضُوا بِأَن يَكُونُوا مَعَ ٱلْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں۔ (گھروں میں بیٹھ) رہیں ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے تو یہ سمجھتے ہی نہیں

They were satisfied to be with those who stay behind, and their hearts were sealed over, so they do not understand.

Tafseer source: تفسیر ابنِ کثیر. Content is supplied through Quran.com's API; consult qualified scholars for religious rulings.

Urdu Tafseer

باب

ان لوگوں کی برائی بیان ہو رہی ہے جو وسعت، طاقت، قوت ہوتے ہوئے جہاد کے لیے نہیں نکلتے جی چرا جاتے ہیں اور حکم الہٰی سن کر پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ آ کر اپنے رک رہنے کی اجازت چاہتے ہیں۔

ان کی بے حمیتی تو دیکھو کہ یہ عورتوں جیسے ہو گئے۔ لشکر چلے گئے یہ نامرد زنانے عورتوں کی طرح پیچھے رہ گئے۔ بوقت جنگ بزدل ڈرپوک اور گھروں میں گھسے رہنے والے اور بوقت امن بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے، یہ بھونکنے والے کتوں اور گرجنے والے بادلوں کی طرح ڈھول کے پول ہیں۔ چنانچہ ایک اور جگہ خود قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ خوف کے وقت ایسی آنکھیں پھیرنے لگتے ہیں جیسے کوئی مر رہا ہو، اور جہاں وہ موقع گذر گیا لگے چرب زبانی کرنے اور لمبے چوڑے دعوے کرنے اور باتیں بنانے۔ امن کے وقت تو مسلمانوں میں فساد پھلانے لگتے ہیں اور وہ بلند و بانگ بہادری کے ڈھول پیٹتے ہیں کہ کچھ ٹھیک نہیں لیکن لڑائی کے وقت عورتوں کی طرح چوڑیاں پہن کر پردہ نشین بن جاتے ہیں بل اور سوراخ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے آپ کو چھپاتے پھرتے ہیں۔ ایماندار تو سورت اترنے اور اللہ تعالیٰ کے حکم ہونے کا انتظار کرتے ہیں لیکن بیمار دلوں والے جہاں سورت اتری، اور جہاد کا حکم سنا کہ آنکھیں بند کر لیں۔ ان پر افسوس ہے اور ان کے لیے تباہی خیز مصیبت ہے۔ اگر یہ اطاعت گزار ہوتے اگر ان کی زبان سے اچھی بات نکلتی ان کے ارادے اچھے ہوتے یہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرتے تو یہی چیز ان کے حق میں بہتر تھی لیکن ان کے دلوں پر تو ان کی بداعمالیوں سے مہر لگ چکی ہے اب تو ان میں اس بات کی صلاحیت بھی نہیں رہی کہ اپنے نفع نقصان کو ہی سمجھ لیں۔

صفحہ نمبر3553