Hadith Library
7 collections · 40,465 hadiths
Viewing Jami' Al-Tirmidhi
Jami' Al-Tirmidhi
Showing 3951–3956 of 3,956 hadiths
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ ، قَالُوا: بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ تَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ، قَالُوا: قَدْ قَبِلْنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Imran bin Husain: that a group from Banu Tamim came to the Messenger of Allah (ﷺ) so he said: Have glad tidings O Banu Tamim. They said: You have given us glad tidings, so then give something to us. He said: So the face of the Messenger of Allah (ﷺ) changed. Then a group from the people of Yemen came so he said: 'Accept the glad tidings, for Banu Tamim did not accept them.' They said: 'We accept.'
قبیلہ بنی تمیم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا: ”اے بنی تمیم! خوش ہو جاؤ“، وہ لوگ کہنے لگے: آپ نے ہمیں بشارت دی ہے، تو ( کچھ ) دیجئیے، وہ کہتے ہیں: یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، اتنے میں یمن کے کچھ لوگ آ گئے تو آپ نے فرمایا: ”تمہیں لوگ بشارت قبول کر لو“، جب بنی تمیم نے اسے قبول نہیں کیا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے قبول کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْلَمُ، وَغِفَارٌ، وَمُزَيْنَةُ، خَيْرٌ مِنْ تَمِيمٍ، وَأَسَدٍ، وَغَطَفَانَ، وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ، فَقَالَ الْقَوْمُ: قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا، قَالَ: فَهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Bakrah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Aslam, Ghifar, and Muzainah are better than Tamim, Asad, Ghatafan, and Banu 'Amir bin Sa'sa'ah, prolonging his voice when saying it. So the people said: They have been treacherous and have lost. He said: So these are better than them.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبائل اسلم، غفار اور مزینہ، قبائل تمیم، اسد، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں“، اور آپ اس کے ساتھ اپنی آواز اونچی کر رہے تھے، تو لوگ کہنے لگے: نامراد ہوئے اور خسارے میں رہے، آپ نے فرمایا: ”وہ ان ( قبائل یعنی تمیم، اسد، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ ) سے بہتر ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنُ ابْنَةِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ، قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ، قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ، وَبِهَا، أَوْ قَالَ: مِنْهَا، يَخْرُجُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Narrated Ibn 'Umar: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: O Allah bless us in our Sham! O Allah bless us in our Yemen. They said: And in our Najd He said: O Allah bless us in our Sham! O Allah bless us in our Yemen. They said: And in our Najd He said: Earthquakes are there, and tribulations are there. Or he said: The horn of Shaitan comes from there.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما“، لوگوں نے عرض کیا: اور ہمارے نجد میں، آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اور ہمارے یمن میں برکت عطا فرما“، لوگوں نے عرض کیا: اور ہمارے نجد میں، آپ نے فرمایا: ”یہاں زلزلے اور فتنے ہیں، اور اسی سے شیطان کی سینگ نکلے گی“، ( یعنی شیطان کا لشکر اور اس کے مددگار نکلیں گے ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی ابن عون کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث بطریق: «سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی آئی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طُوبَى لِلشَّأْمِ ، فَقُلْنَا: لِأَيٍّ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: لِأَنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ.
Narrated Zaid bin Thabit: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) collecting the Qur'an on pieces of cloth, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Tuba is for Ash-Sham.' So we said: 'Why is that O Messenger of Allah?' He said: 'Because the angels of Ar-Rahman spread their wings over it.'
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کاغذ کے پرزوں سے قرآن کو مرتب کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”مبارکبادی ہو شام کے لیے“، ہم نے عرض کیا: کس چیز کی اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اس بات کی کہ رحمن کے فرشتے ان کے لیے اپنے بازو بچھاتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن ایوب کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَفْتَخِرُونَ بِآبَائِهِمُ الَّذِينَ مَاتُوا، إِنَّمَا هُمْ فَحْمُ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجُعَلِ الَّذِي يُدَهْدِهُ الْخِرَاءَ بِأَنْفِهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ، إِنَّمَا هُوَ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ، النَّاسُ كُلُّهُمْ بَنُو آدَمَ، وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
Narrated Abu Hurairah: that the Prophet (ﷺ) said: People should stop boasting about their fathers who have died, while they are but coals of Hell, or they will be more humiliated with Allah than the dung beetle who rolls dung with his nose. Indeed Allah removed Jahiliyyah from you, and its boasting about lineage. [Indeed a person is either] a pious believer, or a miserable sinner. And people are all the children of Adam, and Adam was [created] from dust.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باز آ جائیں وہ قومیں جو اپنے ان آباء و اجداد پر فخر کر رہی ہیں جو مر گئے ہیں، وہ جہنم کا کوئلہ ہیں ورنہ وہ اللہ کے نزدیک اس گبریلے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو اپنے آگے اپنی ناک سے نجاست دھکیلتا رہتا ہے، اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت کو ختم کر دیا ہے، اب تو لوگ مومن و متقی ہیں یا فاجر و بدبخت، لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ، مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ، وَالنَّاسُ بَنُو آدَمَ، وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدَنَا مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ قَدْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَيَرْوِي عَنْ أَبِيهِ أَشْيَاءَ كَثِيرَةً، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ.
Narrated Abu Hurairah [may Allah be pleased with him]: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah has removed the pride of Jahiliyyah from you and boasting about lineage. (A person is either) a pious believer or a miserable sinner, and the people are the children of Adam, and Adam is from dirt.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور اپنے باپ دادا پر فخر کو ختم کر دیا ہے، اب لوگ مومن و متقی ہیں یا فاجر و بدبخت اور سارے لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن اور یہ ہمارے نزدیک پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے، ۲- سعید مقبری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے سنا ہے اور وہ اپنے باپ کے واسطے سے بہت سی چیزیں ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں، ۳- سفیان ثوری اور کئی دوسرے راویوں نے یہ حدیث ہشام بن سعد سے، ہشام نے سعید مقبری سے اور سعید مقبری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوعامر کی حدیث کے مانند روایت کی ہے جسے وہ ہشام بن سعد سے روایت کرتے ہیں۔