Ayah 2:20 • Surah Al-Baqara
سورۃ البقرة — آیت 20
Ayah 2:20 of سورۃ البقرة (Surah Al-Baqara) — read the Arabic text with Urdu tarjuma and English translation. Full Urdu tafseer commentary is available for this ayah.
يَكَادُ ٱلْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَـٰرَهُمْ ۖ كُلَّمَآ أَضَآءَ لَهُم مَّشَوْا فِيهِ وَإِذَآ أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَـٰرِهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔ جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر الله چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کر دیتا ہے۔ بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے
The lightning almost snatches away their sight. Every time it lights [the way] for them, they walk therein; but when darkness comes over them, they stand [still]. And if Allāh had willed, He could have taken away their hearing and their sight. Indeed, Allāh is over all things competent.
Quran text and translations are supplied through Quran.com. English uses Sahih International and Urdu uses Fatah Muhammad Jalandhari. Please report any alignment issue through the corrections page.
Arabic Ayah Audio
Urdu Ayah Audio
Urdu Tafseer
منافقین کی ایک اور پہچان ٭٭ یہ دوسری مثال ہے جو دوسری قسم کے منافقوں کے لیے بیان کی گئی ہے۔ یہ وہ قوم ہے جن پر کبھی حق ظاہر ہو جاتا ہے اور کبھی پھر شک میں پڑ جاتے ہیں تو شک کے وقت ان کی مثال برسات کی سی ہے۔ صیب کے معنی مینہ اور بارش کے ہیں۔ بعض نے بادل کے معنی بھی بیان کئے ہیں لی...
Open Complete Urdu Tafseer