Skip to main content
Read al Quran
Urdu Tafseer

Tafseer of Ayah 2:174 • Surah Al-Baqara

سورۃ البقرة — تفسیر آیت 174

Urdu tafseer of Ayah 2:174 from سورۃ البقرة (Surah Al-Baqara). Read the complete commentary with Arabic ayah text, Urdu tarjuma, and English translation reference.

Arabic + Urdu + English Reference

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلْكِتَـٰبِ وَيَشْتَرُونَ بِهِۦ ثَمَنًا قَلِيلًا ۙ أُو۟لَـٰٓئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِى بُطُونِهِمْ إِلَّا ٱلنَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

English translation unavailable.

Urdu Tafseer

بدترین لوگ ٭٭
صفحہ نمبر624

علاوہ ازیں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ عادت نے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پر آمادہ کر دیا اور ان کی وہ جماعت جس کے ہاتھ سے نکل جانے کے ڈر نے انہیں کلام اللہ چھپانے پر آمادہ کیا تھا بلآخر ہاتھ سے جاتی رہیں ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی ایمان لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر ان حق کے چھپانے والوں کی جانیں لیں اور ان سے باقاعدہ جہاد کیا، قرآن کریم میں ان کی حقائق چھپانے والی حرکتوں کو جگہ جگہ بیان کیا گیا، اور فرمایا ہے کہ جو مال تم کماتے ہو اللہ کی باتوں کو چھپا کر یہ دراصل آگ کے انگارے ہیں، جنہیں تم پیٹ میں بھر رہے ہو۔

صفحہ نمبر625

قرآن کریم نے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو یتیموں کا مال ظلم سے ہڑپ کر لیں، ان کے لیے بھی یہی فرمایا ہے کہ «إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا» [ 4-النساء: 10 ] ‏ وہ بھی اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں اور قیامت کے دن بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔

صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جو شخص سونے چاندی کے برتن میں کھاتا پیتا ہے وہ بھی اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ [صحیح بخاری:5634] ‏ پھر فرمایا ان سے تعالیٰ قیامت کے دن بات چیت بھی نہیں کرے گا نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ المناک عذابوں میں مبتلا کرئے گا۔ اس لیے کہ ان کے اس کرتوت کی وجہ سے اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور اب ان پر سے نظر رحمت ہٹ گئی ہے اور یہ ستائش اور تعریف کے قابل نہیں رہے بلکہ سزا یاب ہوں گے اور وہاں تلملاتے رہیں گے۔ حدیث شریف میں ہے تین قسم کے لوگوں سے اللہ بات چیت نہ کرئے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہیں زانی بڈھا، جھوٹا بادشاہ، متکبر فقیر۔ [صحیح مسلم:107]

فرمایا کہ ان لوگوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی لے لی انہیں چاہیئے تھا کہ توراۃ میں جو خبریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تھیں انہیں ان پڑھوں تک پہنچاتے لیکن اس کے بدلے انہوں نے انہیں چھپا لیا اور خود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی، ان کے اظہار پر جو نعمتیں اور رحمتیں انہیں ملنے والی تھیں ان کے بدلے زحمتیں اور عذاب اپنے سر لے لیے۔

پھر فرماتا ہے انہیں وہ درد ناک اور حیرت انگیز عذاب ہوں گے کہ دیکھنے والا ششدر رہ جائے اور یہ بھی معنی ہیں کہ انہیں آگ کے عذاب کی برداشت پر کس چیز نے آمادہ کیا جو یہ اللہ کی نافرمانیوں میں مشغول ہو گئے۔

صفحہ نمبر626

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے مستحق اس لیے ہوئے کہ انہوں نے اللہ کی باتوں کی ہنسی کھیل سمجھا اور جو کتاب اللہ حق کو ظاہر کرنے اور باطل کا نابود کرنے کے لیے اتری تھی انہوں نے اس کی مخالفت کی ظاہر کرنے کی باتیں چھپائیں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو ظاہر نہ کیا فی الواقع اس کتاب کے بارے میں اختلاف کرنے والے دور کی گمراہی میں جا پڑے۔

صفحہ نمبر627

Arabic Audio

Audio unavailable.

Urdu Audio

Audio unavailable.

Back to Ayah PageAll Al-Baqara TafseerBack to SurahPrevious TafseerNext Tafseer