Skip to main content

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Read al Quran
Urdu Tafseer

Tafseer of Ayah 4:88 • Surah An-Nisaa

سورۃ النساء — تفسیر آیت 88

Urdu tafseer of Ayah 4:88 from سورۃ النساء (Surah An-Nisaa). Read the complete commentary with Arabic ayah text, Urdu tarjuma, and English translation reference.

Arabic + Urdu + English Reference

۞ فَمَا لَكُمْ فِى ٱلْمُنَـٰفِقِينَ فِئَتَيْنِ وَٱللَّهُ أَرْكَسَهُم بِمَا كَسَبُوٓا ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَهْدُوا مَنْ أَضَلَّ ٱللَّهُ ۖ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلًا

تو کیا سبب ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو حالانکہ خدا نے ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کردیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جس شخص کو خدا نے گمراہ کردیا ہے اس کو رستے پر لے آؤ اور جس شخص کو خدا گمراہ کردے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہیں پاؤ گے

What is [the matter] with you [that you are] two groups concerning the hypocrites,1 while Allāh has made them fall back [into error and disbelief] for what they earned.2 Do you wish to guide those whom Allāh has sent astray? And he whom Allāh sends astray - never will you find for him a way [of guidance].3

Tafseer source: تفسیر ابنِ کثیر. Content is supplied through Quran.com's API; consult qualified scholars for religious rulings.

Urdu Tafseer

منافقوں سے ہوشیار رہو ٭٭

اس میں اختلاف ہے کہ منافقوں کے کس معاملہ میں مسلمانوں کے درمیان دو قسم کے خیالات داخل ہوئے تھے، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میدان احد میں تشریف لے گئے تب آپ کے ساتھ منافق بھی تھے جو جنگ سے پہلے ہی واپس لوٹ آئے تھے ان کے بارے میں بعض مسلمان تو کہتے تھے کہ انہیں قتل کر دینا چاہیئے اور بعض کہتے تھے نہیں یہ بھی ایماندار ہیں۔

اس پر یہ آیت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شہر طیبہ ہے جو خودبخود میل کچیل کو اس طرح دور کر دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو چھانٹ دیتی ہے۔ [صحیح بخاری:1884] ‏ ابن اسحاق میں ہے کہ کل لشکر جنگ احد میں ایک ہزار کا تھا، عبداللہ بن ابی سلول تین سو آدمیوں کو اپنے ہمراہ لے کر واپس لوٹ آیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پھر سات سو ہی رہ گئے تھے۔

صفحہ نمبر1853

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکہ میں کچھ لوگ تھے جو کلمہ گو تھے لیکن مسمانوں کے خلاف مشرکوں کی مدد کرتے تھے یہ اپنی کسی ضروری حاجت کے لیے مکہ سے نکلے، انہیں یقین تھا کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی کیونکہ بظاہر کلمہ کے قائل تھے ادھر جب مدنی مسلمانوں کو اس کا علم ہوا تو ان میں بعض کہنے لگے ان نامرادوں سے پہلے جہاد کرو یہ ہمارے دشمنوں کے طرفدار ہیں اور بعض نے کہا سبحان اللہ جو لوگ تم جیسا کلمہ پڑھتے ہیں تم ان سے لڑوگے؟

صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور اپنے گھر نہیں چھوڑے، ہم کسطرح ان کے خون اور ان کے مال اپنے اوپر حلال کرسکتے ہیں؟ ان کا یہ اختلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا آپ خاموش تھے جو یہ آیت نازل ہوئی۔ (‏ابن ابی حاتم) [تفسیر ابن جریر الطبری:10/9:]

سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما کے لڑکے فرماتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر جب تہمت لگائی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کوئی ہے جو مجھے عبداللہ بن ابی کی ایذاء سے بچائے اس پر اوس و خزرج کے درمیان جو اختلاف ہوا اس کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے، لیکن یہ قول غریب ہے، ان کے سوا اور اقوال بھی ہیں۔

اللہ نے انہیں ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ ان کی ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ سچے مسلمان بھی ان جیسے گمراہ ہو جائیں ان کے دلوں میں اس قدر عداوت ہے، تو تمہیں ممانعت کی جاتی ہے کہ جب تک یہ ہجرت نہ کریں انہیں اپنا نہ سمجھو، یہ خیال نہ کرو کہ یہ تمہارے دوست اور مددگار ہیں، بلکہ یہ خود اس لائق ہیں کہ ان سے باقاعدہ جہاد کیا جائے۔

صفحہ نمبر1854
صفحہ نمبر1855

Arabic Audio

Urdu Audio